اہل بیت(ع) نیوز
ایجنسی ـ ابنا ـ مطابق، حالیہ چند ہفتوں میں غزاوی پناہ گزینوں کے میزبان 21 اسکولوں اور مدارس پر صہیونی حملوں کے بعد،
صہیونی ریاست نے 4000 سے 5000 پناہ گزینوں کو پناہ دینے والے مدرسۃ التابعین کو
بمباری کا نشانہ بنایا اور 100 افراد کو شہید کر دیا۔
غزہ میں شہری دفاع کے ادارے کے ترجمان نے کہا: غاصب صہیونیوں نے غزہ کے الدرج نامی محلے میں واقع مدرسۃ التابعین میں نماز ادا کرنے والے پناہ گزینوں کو پر تین امریکی ساختہ بموں (یا میزائلوں) کا نشانہ بنایا اور 90 فیصد نمازیوں کو شہید کر دیا۔
ادھر غزہ میں سرکاری انفارمیشن آفس نے عربی ٹیلی وژن کو بتایا کہ صوبہ غزہ میں اتنی بڑی تعداد میں زخمیوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوئی ہسپتال نہیں ہے۔ یہ قتل عام نسل کُشی کے صہیونی منصوبے کے دائرے میں انجام پایا۔
فلسطینی مقاومتی کمیٹیوں نے بھی اپنے بیان میں کہا: صہیونی جلادوں کے ہاتھوں نماز فجر میں مصروف فلسطینی پناہ گزینوں کا ہولناک قتل عام، جنگی جرائم کا ایک باب ہے، جو جرائم پیشہ دشمن اور اس کے نازی سرغنوں نے رقم کیا ہے۔
مقاومتی کمیٹیوں کے بیان میں مزید کہا گیا ہے: دشمن غزہ کے نہتے شہریوں کے قتل عام، مقامی آبادی کی بیخ کنی، اور آخرکار انہیں اپنی سرزمین سے نقل مکانی پر مجبور کرنے کی غرض سے ان جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔
غزہ میں سرکاری انفارمیشن آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتہ نے کہا: غاصب فوج کو معلوم تھا کہ اس مدرسے میں پناہ گزینوں کو بسایا گیا ہے۔ دشمن اس خطے پر بمباری کا ارادہ رکھتا تھا اور شہداء کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی اگلے منگل کو الجزائر کی درخواست پر مدرسۃ التابعین پر صہیونی حملے کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس کا انعقاد کرے گی جس میں اب تک 100 سے زائد افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
فلسطینی امور کے تجزیہ کار سید جعفر رضوی نے مذکورہ واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسنا (ISNA) سے کہا: صہیونی ریاست کے اقدامات کے حوالے چند اہم نکات کو ہرگز نہیں بھولنا چاہئے:
1۔ صہیونی ریاست نے گذشتہ دو عشروں سے فلسطینیوں کو غزہ سے نقل مکانی پر مجبور کرنے کے منصوبہ پر عمل درآمد کا آغاز کیا ہے۔ گوکہ فلسطین کے قبضے کے آغاز سے بھی یہ منصوبہ نافذ ہوتا آیا ہے۔ لیکن اکیسویں صدی کے آغاز میں، جب حماس غزہ پر حاوی ہو گئی، تو یہ علاقہ اس منصوبے کے حوالے سے اہمیت اختیار کر گیا اور غزاویوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کے لئے تمام تر اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا: صہیونیوں نے پابندیوں، شدید ناکہ بندیوں اور مسلط کردہ جنگوں کے ذریعے اپنے اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی ہے۔ غزہ دنیا کا گنجان آباد ترین علاقہ ہے جو بہت کم رقبے کے باوجود 23 لاکھ فلسطینیوں کا مسکن ہے؛ اور صہیونی یہاں کے باشندوں کو فلسطین چھوڑنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔
2۔ صہیونی ریاست نے غزہ پر جارحیت کے لئے کئی مقاصد کا اعلان کیا تھا جن میں سے وہ ایک کو بھی حاصل نہیں کر سکی ہے جن میں سے ایک مقصد حماس کا خاتمہ تھا جو پورا نہیں ہو سکا۔ چنانچہ وہ ان وحشیانہ اقدامات کے ذریعے اپنی اندرونی رائے عامہ کو پر سکون بنانا چاہتی ہے اور یہ اقدامات درحقیقت بے چین صہیونی معاشرے کے لئے دافعِ درد دوا (Analgesic) کے طور پر انجام دیئے جاتے ہیں۔
3۔ صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ہر قیمت پر، بر سراقتدار رہنے کے لئے جنگ جاری رکھنے کا محتاج ہے۔ اور آج صہیونی حکام اپنے انسانیت دشمن اقدامات کا جواز فراہم کرنے کے لئے دعویٰ کرتے ہیں کہ جس مدرسے کو انہوں نے بموں کا نشانہ بنایا ہے، وہاں حماس کے کچھ ارکان موجود اور سرگرم عمل تھے، اور یہ صہیونی فوج اور وزیر اعظم کے جرائم کے تسلسل کا واحد بہانہ ہے۔ حماس سمیت فلسطینی تحریکوں اور ہسپتال کے ذرائع نے بھی صہیونیوں کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے اور ان کی جاری کردہ ناموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افراد یا تو بہت پہلے شہید ہو چکے ہیں یا پھر مدرسۃ التابعین میں آئے ہی نہیں ہیں اور یہ کہ افراد عام شہری ہیں اور ان کا حماس یا جہاد اسلامی کے فوجی شعبوں سے کوئی تعلق نہيں ہے۔
3۔ جب تک کہ عالمی برادری سنجیدگی سے مداخلت نہیں کرے گا، قتل عام کے یہ واقعات جاری رہیں گے۔ ممالک کی طرف مذمتی بیانات صرف زبانی کلامی ہیں، کیونکہ دنیا پر امریکہ کا تسلط ہے اور یہ بیانات لاحاصل ہیں۔
انھوں نے کہا: درست ہے کہ اقوام متحدہ میں صہیونی ریاست کے اقدامات کے خلاف قراردادیں منظور کی ہیں لیکن جو قراردادیں مجلس عمومی (جنرل اسمبلی) میں منظور کی جاتی ہیں اور کے نفاذ کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ صرف سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نفاذ کی ضمانت موجود ہے لیکن چونکہ صہیونی ریاست کو امریکہ کی مطلق سرپرستی حاصل ہے چنانچہ اس کے خلاف آنے والی قراردادوں کو یا تو ویٹو کیا جاتا ہے، یا پھر انہیں اس طرح سے ترتیب دیا جاتا ہے کہ صہیونی ان کی پابندی کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا: جنگی جرائم کی عدالت یا ہیگ کی عدالت میں جو سزائیں دی جاتی ہیں، ان کی سماعت اور نفاذ کا عمل طویل المدت ہے اور ان کے احکامات کے نفاذ پر دو سے 10 سال تک کا عرصہ لگتا ہے اور متعلقہ مقدمات کا نتیجہ بھی افراد سے تعلق رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر صہیونیوں پر مقدمہ چلایا جائے گا تو ریاست کے خلاف کوئی حکم نہیں آتا بلکہ صہیونی وزیر اعظم یا وزیر جنگ کو مجرم ٹہرایا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110